پابندیوں کافوری ہدف عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنااور طویل ہدف معیشت تباہ کرناہے، دشمن کے مقابلے میں پسپائی اختیار کرناپابندیوں کا علاج نہیں
مذاکرات سے امریکیوں کا اصلی مقصد انتہائی اہم صلاحیتیں سلب کرنا ہے، امریکی نظام کی سیاسی و اقتصادی بنیادیں غلط ہیں اور انکی نابودی یقینی ہے
تہران(نیوز ڈیسک)ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں کے ذریعے دشمن ایران کا استقامتی تحریکوں کے ساتھ تعلق ختم کرنا چاہتا ہے ،لیکن نہ پہلے ہوسکا اور نہ ہی آئندہ ہوگا ،اس کا اعتراف دشمن بھی کرچکا ہے،عیدالاضحی کے موقع ٹیلیویڑن پر قوم کے ساتھ براہِ راست خطاب
میں ولی امر مسلمین نے دشمن کی پابندیوں کو قلیل المیعاد، ، وسط مدتی اور طویل المیعاد اہداف کا حامل قرار دیا اور کہا کہ قلیل المیعاد ہدف ایرانی عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا، وسط مدتی ہدف کا مقصد قومی پیشرفت کو روکنا اور طویل المیعادہدف کا مقصد حکومت کو ناکام بنانا اور معیشت کو تباہ کرنا ہے، پابندیوں کے ساتھ ساتھ دشمن نے حقائق مسخ کرنے کی مہم بھی چلارکھی ہے، لیکن اگر تحریف کی کوششیں ناکام ہوجائیں تو پابندیاں بھی ناکام ہو جائیں گی کیونکہ یہ ارادوں کی جنگ ہے، انہوں نے کہا کہ دشمن کے مقابلے میں پسپائی اختیار کرناپابندیوں کا علاج نہیں اور نہ دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے پابندیاں ختم ہوں گی، پابندیوں کا علاج صرف اور صرف قومی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا ہے ، امریکا چاہتا ہے کہ ایران اپنی ایٹمی صنعت سے پوری طرح دستبردار ہوجائے، دفاعی طاقت و صلاحیت میں بہت زیادہ کمی کردے اور اپنی علاقائی طاقت کی حیثیت کو ختم کردے لیکن ان مطالبات کا تسلیم کر لینا بھی امریکا کے پیچھے ہٹنے کا موجب نہیں بنے گا اور کوئی عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ جارح کو روکنے کیلئے اس کے مطالبات کو تسلیم کر لیا جائے،انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے امریکیوں کا اصلی مقصد ملک و قوم کی انتہائی اہم صلاحیتیں سلب کرنا ہے تاہم موجودہ امریکی صدر اپنے ذاتی و انتخاباتی مفادات کی فکر میں ہے جیسا کہ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات سے انتخاباتی فائدہ اٹھایا گیا ہے،انہوں نے امریکا میں رونما ہونے والے واقعات کو راکھ تلے دبی ایسی چنگاری سے تعبیر کیا ہے جو شعلہ ور ہو گئی ہے، اگر چہ وہ اسے دبانے میں کامیاب بھی ہو گئے لیکن یہ چنگاری دوبارہ شعلہ ور ہوگی اور موجودہ امریکی نظام کو جلا کر راکھ کردے گی، کیونکہ امریکی حکومت کی سیاسی و اقتصادی بنیادیں غلط ہیں اور انکی نابودی یقینی ہے،انہوں نے کہا کہ 2018 میں ایٹمی سمجھوتے سے امریکاکے نکلنے کے بعد ایران مہینوں یورپی یونین کے وعدوں پر بھروسہ کئے رہا لیکن یورپی حکام نے امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا اور انسٹیکس کے نام سے جو سسٹم انہوں نے پیش کیا وہ کبھی آپریشنل نہیں ہوا اور صرف ایک مذاق ثابت ہوا۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- پابندیوں سے استقامتی تحریکوں سے تعلق ختم ہوا نہ ہوگا،ولی…
پابندیوں سے استقامتی تحریکوں سے تعلق ختم ہوا نہ ہوگا،ولی امر مسلمین
-
Ilyas - اگست 6, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 7
- 0 minute read


































