
بعض ممالک اسلام کو بدنام کرکے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں منفی تاثر ابھار کر مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جارہا ہے، مسلمانوں کے خلاف تصوراتی دیوار بنادی گئی
مسلمان طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلے نہیں دیئے جارہے،مذہبی رسومات کی ادائیگی سے بھی روک دیا گیا،ملازمتوں کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں
ویانا (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے کہا ہے کہ بعض ممالک اسلام کو بدنام کرکے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض ممالک اسلام کا منفی تاثر ابھار کر مسلمانوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں جس سے ان ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی جان و مال کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں، رپورٹ کے مطابق بعض ممالک نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، دشمنی اور تشدد کو مستقل اور جائز قرار دیا ہے، اسلام دشمنی کے شکار ان ممالک میں مسلمانوں کے خلاف ایک تصوراتی دیوار تعمیر کر دی ہے جس سے ان ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کے انسانی حقوق پامال کئے جا رہے ہیں اور ریاست اس پر آنکھیں بند کئے سب کچھ دیکھ رہی ہے ، رپورٹ میں نائن الیون کے مشکوک واقعات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2001 میں امریکا میں دہشت گرد حملے کے بعد اسلام کے نام پر کی گئی کارروائیوں سے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ کئی مسلمانوں نے اقوام متحدہ کی ٹیم کو بتایا ہے کہ بعض ممالک میں انہیں مشکوک کمیونٹیز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ایک چھوٹی سی جماعت کی کارروائیوں کو پوری مسلم امہ پر ڈال کر مسلمانوں سے نفرت کا پرچار کیا جا رہا ہے، مسلمان خواتین طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلے نہیں دیئے جا رہے ہیں اور مسلمانوں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے،اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں 2018 اور 2019 میں یورپین سرویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کی 37 فیصد آبادی مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے،ریاستی سطح پر اور بعض اوقات نجی سطح پر ایسے اقدامات کئے گئے کہ مسلمانوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی سے بھی روک دیا گیا،کئی ممالک میں مسلم خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں پردے اور نقاب سے روکا جا رہا ہے اور ان پر سرکاری اور نجی ملازمتوں کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں۔


































