لبنان میں مظاہرین نے پھر آگ لگادی، سرکاری املاک پر حملے اور جلاو ¿ گھیراو ¿، عوام کو اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، امریکا کی حمایت
فرانس کی مداخلت کے بعد وزیراعظم حسن دیاب اپنی کابینہ سمیت مستعفی، قبل ازوقت انتخابات کا اعلان،سانحہ بیروت میں ملوث افراد کو سزادی جائے گی، وزیراعظم
بیروت (نیوزڈیسک) لبنان کیخلاف فرانس، امریکا اور سعودی عرب نے اتحاد قائم کرلیا، تینوں ممالک اصلاحات کے نام پر لبنان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے میدان میں آگئے ہیں،امریکی سرپرستی میں پرتشدد مظاہروں کے بعد وزیراعظم حسن دیاب اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہوگئے اورملک میں قبل ازوقت انتخابات کا اعلان کردیا،وزیراعظم حسن دیاب کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ قبل از وقت انتخابات کے ذریعے ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جاسکتا ہے، انہوں نے ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہی کہ سانحہ بیروت میں ملوث افراد کا پتہ لگا کر انہیں ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی، بیروت میں دھماکے کے فوری بعد فرانسیسی وزیراعظم میکرون نے لبنان کا دورہ کیا اور ملک میں نئی حکومت کی تشکیل اور اصلاحات کا مطالبہ کردیا، لبنانی حکومت کے استعفے کے بعد فرانسیسی وزارت خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ میکرون کے دورے کا مقصد پورا ہوگیا ، لہذا جلد ہی نئی حکومت تشکیل دی جائے گی، یہ اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ فرانس لبنان کے معاملات میں کھلی مداخلت کررہا ہے اور امریکا، سعودی عرب کے ساتھ ایسی حکومت کی تشکیل پر زور دے رہا ہے، جو ان کے مفاد میں ہو اور مزاحمتی گروہوں کو کمزور بلکہ غیر مسلح کرے، ادھر بیروت میں امریکی سفارت خانے نے سرکاری عمارتوں پر حملہ کرنے اور املاک کو جلانے والے پرتشدد مظاہرین کی حمایت کی اور کہا کہ کہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، مظاہرین اور پولیس کے تصادم میں ایک پولیس اہلکار جان بحق اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لبنان کے سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی کے رہنماو ¿ں نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے پوری طرح ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- لبنان کیخلاف فرانس، امریکا اور سعودی عرب کا گٹھ جوڑ
لبنان کیخلاف فرانس، امریکا اور سعودی عرب کا گٹھ جوڑ
-
Ilyas - اگست 13, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 19
- 0 minute read


































