
پابندیوں کی بحالی کا دعوی بھی غیر قانونی ہے،جرمنی، برطانیہ اور فرانس کا مشترکہ بیان،عالمی پابندیوں کے خاتمے کا عمل جاری رہے گا،یورپی یونین
امریکا نہ پہلے کامیاب ہوا نہ اب ہوسکے گا،روس، امریکی درخواست پر پابندی نہیں لگاسکتے، اقوام متحدہ،امریکا پھر تنہا رہ گیا ہے ، ایرا نی وزیرخارجہ
نیویارک (نیوز ڈیسک)امریکا کو ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کے معاملے میں بھی شرمناک رسوائی کاسامنا کرنا پڑا ،وزیرخارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود اقوام متحدہ ،یورپی یونین، روس ،چین اور برطانیہ نے ایران کے خلاف یکطرفہ امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے ا ن کی پاسداری نہ کرنے کا اعلان کردیا، ایٹمی معاہدے کے فریق تین یورپی ملکوں، جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ امریکاایٹمی معاہدے سے نکل چکا ہے اور معاہدے کا رکن نہ ہونے کے باعث اس کی جانب سے اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں کی بحالی کا دعوی بھی غیر قانونی ہے،امریکا کا کوئی بھی اقدام غیر موثر رہے گا، یورپی یونین کے خارجہ پالیسی چیف جوزف بورل نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے کی بنیاد پر ایران کے خلاف عالمی پابندیوں کے خاتمے کا عمل جاری رہے گا ، امریکا عملی طور پر ایٹمی معاہدے سے نکل چکا ہے، لہذا اسے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا حق حاصل نہیں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے سلامتی کونسل کے نام ایک خط میں واضح کیا ہے کہ اجماع کے فقدان کی وجہ سے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کرنے کی امریکی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی،انہوں نے ایران کے خلاف پابندیوں کو دوبارہ لاگو کرنے سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے ہم سلامتی کونسل کے فیصلے پر عمل کریں گے، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ امریکا اقتصادی پابندیاں ایران کو کمزور کرنے کے لئے لگا رہا ہے جس میں وہ ابھی تک کامیاب نہیں ہوا اور نہ ہی وہ کبھی اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گا، ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی سلامتی کونسل کی پابندیاں دوبارہ عائد کرانے کی غرض سے امریکا کی یک طرفہ کوششوں کے بارے میں کہا کہ امریکا اور ایک اور ملک کے سوا سلامتی کونسل کے تمام رکن ملکوں نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتے


































