
2020 میں سب سے زیادہ یعنی 200 افراد کے خلاف توہینِ مذہب کے مقدمات، 70فیصد شیعہ اور 20 فیصد قادیانی ، سینٹر فار سوشل جسٹس کی رپورٹ
1987 سے 2020 تک کل 1855 افراد پرمقدمات،76 فیصد کیسز کا پنجاب میں اندراج، اب تک 42مسلمانوں سمیت 78 افراد کو قتل کیاگیا
اسلا م آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان میں توہینِ مذہب کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا، سینٹر فار سوشل جسٹس کی رپورٹ کے مطابق 2020 میں سب سے زیادہ یعنی 200 افراد کے خلاف توہینِ مذہب کے مقدمات درج کیے گئے، یہ تعداد توہینِ مذہب کے قانون میں سابق فوجی حکمران جنرل ضیا الحق کے دور میں کی گئی ترمیم کے 37 سال بعد سب سے زیادہ ہے،زیادہ کیسز اقلیتوں کی بجائے مسلمانوں کے خلاف درج ہوئے ، جن مسلمانوں پر مقدمات درج کئے گئے ان میں 70 فیصد شیعہ، 20 فیصد قادیانی ، ساڑھے تین فیصد مسیحی اور ایک فی صد ہندو شامل ہیں، 2009 میں سب سے زیادہ 113 افراد پر مقدمات ہوئے تھے ، سال 1987 سے 2020 تک کل 1855 افراد پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا گیا جن میں سے 1673 مرد، 84 خواتین اور 97 افراد کی جنس کی شناخت نہیں ہو سکی،ملک میں ایک کمپنی کے خلاف بھی توہینِ مذہب کا کیس دائر کیا جا چکا ہے، زیادہ تر کیسز مذہبی عقائد، مقدس کتب، انبیا کی توہین، مذہبی اجتماع میں خلل ڈالنا یا دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی دفعات کے تحت درج کیے گئے تھے ، رپورٹ کے مندرجات کے مطابق 37 سال کے دوران 76 فی صد مقدمات پنجاب جب کہ 19 فی صد سندھ اور خیبر پختونخوا میں دو فی صد مقدمات قائم کیے گئے، اب تک 78 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا جن میں سے 42 مسلمان، 23 مسیحی، نو احمدی، پانچ ہندو اور دو ایسے افراد بھی شامل تھے جن کے مذہب کی تصدیق نہیں ہو سکی


































