
معاہدہ مسلمانوں کے ساتھ غداری اور اسٹریٹجک حماقت ہے، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے پاوں مضبوط کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے،ایران
اماراتی حکام کا منافقانہ چہرہ دنیائے اسلام کے سامنے نمایاں ہو گیا،ترکی،عمان ،بحرین،سوڈان،ایتھوپیا ،اردن ،مصر اور موریطانیہ نے معاہدے کا خیرمقدم
تہران/انقرہ)نیوز ڈیسک) اسرائیل عرب امارات معاہدے کی صرف ایران اور ترکی نے مذمت کی ہے جبکہ بیشتر مسلم ممالک نے عرب امارات سے مالی مفاد وابستہ ہونے کی وجہ سے خاموشی میں عافیت جانی ،عمان ،بحرین،سوڈان ،اردن ،مصر اور موریطانیہ نے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے ، ایرانی صدر حسن روحانی نے معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کیساتھ معاہدہ مسلمانوں کے ساتھ غداری ہے ،انہوں نے متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے پاوں مضبوط کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، اس معاملے میں یو اے ای ہوشیار رہے، انہوں نے ایک انتہائی قدم اٹھایا ہے تاہم امید کرتے ہیں کہ انہیں بہت جلد اپنی اس غلطی کا احساس ہوگا،ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام ابو ظبی اور تل ابیب کی طرف سے اسٹریٹجک حماقت ہے ،ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے حکام کا منافقانہ چہرہ دنیائے اسلام کے سامنے نمایاں ہو گیا ،معاہدے کے بعد یہ بھی ہوسکتا ہے ہم ابوظبی سے سفیر واپس بلا لیں، ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات بنا کر یواے ای خطے میں کشیدگی چاہتا ہے، عرب امارات نے اپنے مفاد کے لیے فلسطینیوں کو دھوکہ دیا ہے، عمان نے کہا کہ وہ خطے میں امن کی کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کرتے ہیں، اردن نے کہا کہ معاہدہ سے خطے میں امن کی کوششوں کو تقویت ملے گی،مصر، بحرین ،سوڈان اور موریطانیہ نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کیلئے سودمند قرار دیا


































