
اقلیتی مسائل پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے فرنینڈ ڈی ویرنس نے ہندوستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بڑے پیمانے پر منظم اور خطرناک قرار دیا ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے زیر اہتمام سماعت کےدوران فرنینڈ ڈی ویرنس نے کہا کہ ہندوستان میں بنیادی حقوق خصوصا مذہبی حقوق کی صورتحال کا خلاصہ تین الفاظ بڑے پیمانے پر، منظم اور خطرناک خلاف ورزیوں سے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بنیادی طور پر مذہبی اور مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں جیسی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی بڑے پیمانے پر سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں عدم استحکام، مظالم اور تشدد کا بڑا محرک بن گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کا یہ طرزعمل انفرادی یا مقامی نہیں بلکہ منظم اور مذہبی قوم پرستی کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے انتخابات کے موقع پر اقلیتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نشانہ بنانے سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ ادھر امریکی کمیشن کے سربراہ ابراہم کوپر نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمان، سکھ، عیسائی، دلت اور قبائیلی کو مسلسل حملوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی قوم پرست حکومت ملک میں مسلسل اقلیتوں کی آوازوں کو دبا رہی ہے اور ان کے حامیوں کو ہراساں کرنے کیلئے انکی املاک کو مسمار اور انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت گرفتار کررہی ہے۔


































