
نیویارک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے امن منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا، ایک بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی اور تعمیر نو کے لیے عالمی تعاون شامل ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس ۔ الجزیرہ اور اسرائیلی چینل 12 کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کو امریکی منصوبے کی خاکہ بندی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ منصوبہ اس بات پر مبنی ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ سے بتدریج نکلے اور اس دوران ایک بین الاقوامی حمایت یافتہ امن فوج علاقے کا نظم سنبھالے، تاکہ جنگ سے متاثرہ خطے میں منتقلی اور تعمیر نو کا عمل شروع ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق اس سارے عمل میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک غزہ میں فوجی دستے بھیجنے اور تعمیر نو کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے پر متفق ہوں۔ یہ منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عرب مسلم رہنماؤں سے ملاقات میں پیش کیا گیا۔ ملاقات میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ غزہ جنگ کو ابھی اسی وقت ختم کر سکتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس لایا جائے۔ جنرل اسمبلی سے خطاب میں ٹرمپ نے کہاتھا کہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی کا معاہدہ ہونا چاہیے۔


































