
جنیوا : اقوام متحدہ نے غزہ میں مکمل قحط کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ انسانی حقوق کمیشن نے قحط کو اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا براہ راست نتیجہ قرار دیا ہے۔ بھوک کے نگراں عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی میں قحط پھیل رہا ہے اور ستمبر کے آخر تک وسطی اور جنوبی علاقوں میں پھیلنے کا امکان ہے۔
انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیزکلاسیفکیشن (آئی پی سی) نے کہاہےکہ شمالی غزہ میں قحط پھیل چکاہے اور یہ اگلے ماہ کے آخر تک جنوبی غزہ کے دیر البلاح اور خان یونس کے وسطی علاقے تک پھیل جائے گا۔
آئی پی سی کی رپورٹ میں کہاگیا ہےکہ ڈھائی لاکھ فلسطینیوں کو تباہ کن قحط کے پانچویں درجے کا سامنا ہے۔ نصف آبادی یعنی سترہ لاکھ کو چوتھے درجے جبکہ بیس فیصد یعنی چار لاکھ کو قحط کے تیسرے درجے کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ وولکر ترک نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے ضروری انسانی امداد اور خوراک کے داخلے کو روک دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جنگی جرم ہے۔


































