
نیویارک : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک کمیٹی نے عالمی عدالت انصاف سے فلسطین پر اسرائیل کے کئی دہائیوں پرانے قبضے پر مشاورتی رائے طلب کرلی۔ جنرل اسمبلی کی کمیٹی برائے سیاست و نوآبادیات نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کا کیس عالمی عدالت انصاف کو بھیجنے کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔98 ممالک نے قرارداد کی حمایت اور 17 نے مخالفت کی جبکہ 52 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فوری طور پر فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے طویل قبضے، الحاق اور آباد کاری کا جائزہ لے۔جو فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی خلاف ورزی ہے۔ فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نے قرار داد کو ایک سفارتی اور قانونی پیش رفت قرار دیا ۔ جس سے اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے نئے دور کا آغازہوا۔ امریکا اور اسرائیل نے قرارداد پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی سفیر نے کہاکہ فلسطینیوں نے امن کے ہر اقدام کو مسترد کر دیا ہے اور اور اب وہ اس بہانے سے ایک بیرونی ادارے کو گلے لگا رہے ہیں کہ تنازع حل نہیں ہوا؟۔ امریکی سفیر نے آئی سی جے کی مشاورتی رائے کو غیرپیداواری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فریقین کو دو ریاستی حل کے اس مقصد سے مزید دور لے جائے گی جس میں ہم سب بات چیت میں شریک ہیں۔ آئی سی جے نے آخری بار 2004 میں تنازع پر غور کیا تھا اور جب اس نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی حفاظتی باڑھ کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

































