
کابل : طالبان نے ایک امریکی انجینیئر کو رہا کر دیا ہے جسے انھوں نے 2020 سے یرغمال بنا رکھا تھا جبکہ اس رہائی کے بدلے میں امریکا نے 2005 سے اپنی حراست میں رکھے گئے ایک افغان قبائلی رہنما اور منشیات کے اسمگلر کو رہا کیا ہے۔ بشیر نورزئی 17 سال سے امریکا میں منشیات اسمگلنگ کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہےتھے۔ انھوں نے طالبان کے روایتی گڑھ صوبہ قندھار میں افیون کی کاشت کا ایک وسیع آپریشن چلایا۔بشیر نورزئی رہائی کے بعد افغان دارالحکومت واپس پہنچے تو ان کا ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا، انھیں پھولوں کے ہار پہنائے۔ نورزئی طالبان کے بانی ملا عمر کے قریبی ساتھی اور دوست تھے اور انھوں نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی پہلی حکومت کی مالی مدد کی تھی۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ وہ کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھتے تھے لیکن اسلحے سمیت مالی مدد فراہم کرتے تھے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے سابق افسر مارک فریرچ کو پیر کے روز کابل ہوائی اڈے پر امریکہ کے حوالے کیا گیا۔

































