
کابل : افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ کا حکم دے دیا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ یہ حکم امیر ملا اخوندزادہ نے ججوں کے ایک گروپ سے ملاقات میں دیا انہوں نے کہا کہ چوروں، اغوا کاروں اور باغیوں کی فائلوں کا بغور جائزہ لیں۔ اگر جرم ثابت ہوجائے تو ججز مجرموں کو شریعت کے مطابق سزا سنائیں۔ ملا ہیبت اللہ نے ججوں سے کہاکہ ڈکیتی، اغوا اور بغاوت جیسے جرائم کو اسلامی شرعی قانون کی گروپ کی تشریح کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔ ترجمان نے سزاؤں کی وضاحت نہیں کی۔ لیکن شرعی قانون کے تحت سزاؤں میں ہاتھ کاٹنا، سرعام کوڑے مارنا اور سنگسار کرنا شامل ہے۔ طالبان نے اقتدار میں آنے پر اعتدال کا وعدہ کیا تھا تاہم اس پر عمل نہیں کیا۔ ادھر طالبان نے پارکوں کے بعد خواتین کے جم اور عوامی حمام میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

































