Wed Oct 14, 2026

آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس

روزانہ کی خبریں

اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد ایک لاکھ تک جاپہنچی، اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

تل ابیب: اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی شہادتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے جو علاقے کی مجموی آبادی کا چار فی صد ہے۔ اخبار نے بین الاقوامی محققین کے ایک غیر شائع شدہ مطالعے کا حوالہ دیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں وزارتِ صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار حقیقت سے کم ہیں۔ اخبار کے مطابق اسرائیل میں سرکاری ترجمان اور صحافی فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کو مبالغہ آمیز کہتے ہیں لیکن عالمی ماہرین کا موقف ہے کہ یہ اعداد و شمار نہ صرف معتبر ہیں بلکہ ممکن ہے کہ حقیقت سے کم ہوں۔ اس تحقیق میں غزہ کے دو ہزار خاندانوں پر مشتمل آبادی کا سروےکیا گیا۔ جس سےمعلوم ہوا کہ رواں سال جنوری تک 75 ہزار 200 فلسطینی جاں بحق ہو چکے تھے جبکہ وزارتِ صحت نے یہ تعداد 45 ہزار 660 بتائی تھی۔ یعنی سرکاری اعداد و شمار میں تقریباً 40 فیصد کمی پائی گئی۔
رپورٹ میں لندن یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل سباگات کی قیادت میں کی گئی تحقیق کو سب سے جامع قرار دیا گیا، جس میں فلسطینی سیاسی ماہر ڈاکٹر خلیل الشقاقی کی معاونت بھی شامل تھی۔

مزید پڑھیے

Most Popular