Thu Oct 22, 2026

ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا میں دفاعی تعاون کا سمجھوتہ دھمکیوں اور پابندیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں، ایرانی صدر پاکستان اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، منظوری کیلئے بل ترک پارلیمنٹ میں پیش فیلڈ مارشل اور ایرانی سیکورٹی چیف کی ملاقات، افزودہ یورینیم ایران سے باہر نہیں جائے گی، رضائی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، میاں بیوی اور 17 سالہ نوجوان سمیت 4 فلسطینی شہید سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ، 53 افراد ہلاک؛ خواتین اور بچے بھی نشانہ بن گئے پنجاب کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی، نیا آرڈیننس نافذ مارو اور بھاگ جاؤ کا دور ختم ہو گیا، ایران ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے درمیان معاہدہ، یہود دشمنی پر تادیبی کارروائی کی شقیں بھی شامل البانیہ میں پرتشدد مظاہروں میں مزید شدت، دارالحکومت تیرانا کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں امریکی وزیرِ جنگ کا اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ، نیتن یاہو سے ملاقات: ایگزیوس امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار

روزانہ کی خبریں

ایک لاکھ 30 ہزار فلسطینیوں کے مکانات کے انہدام کا خدشہ

مقبوضہ علاقوں میں ایک لاکھ 30 ہزار فلسطینیوں کو مکانات اور دوسری املاک کی مسماری کے خطرات کا سامنا ہے۔ فلسطینی تنظیم عرب سینٹر فار آلٹرنیٹیو پلاننگ نے فلسطینیوں کی ملکیتی ایسی عمارتوں کی تعداد کو گن کر اعداد وشمار تیار کیے ہیں جن سے متعلق اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تعمیراتی اجازت نامے موجود نہیں ہیں۔ سروے کے مطابق ایک لاکھ 30 ہزار فلسطینی 29 ہزار عمارتوں میں مقیم ہیں جو قابض حکومت کی بے جا پابندیوں یا رکاوٹوں کی وجہ سے اجازت نامے حاصل نہیں کرسکے۔ اس میں 15ہزار چھوٹی عمارتیں، زرعی شیڈ، کاروں کی مرمت کی دکانیں اور دیگر ڈھانچے شامل ہیں۔چھان بین سے پتہ چلتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کو تعمیرات کا اجازت نامہ حاصل کرنے میں اوسطاً آٹھ سال جبکہ اسرائیلیوں کیلئے صرف ڈھائی سال لگتے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular