
مقبوضہ علاقوں میں ایک لاکھ 30 ہزار فلسطینیوں کو مکانات اور دوسری املاک کی مسماری کے خطرات کا سامنا ہے۔ فلسطینی تنظیم عرب سینٹر فار آلٹرنیٹیو پلاننگ نے فلسطینیوں کی ملکیتی ایسی عمارتوں کی تعداد کو گن کر اعداد وشمار تیار کیے ہیں جن سے متعلق اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تعمیراتی اجازت نامے موجود نہیں ہیں۔ سروے کے مطابق ایک لاکھ 30 ہزار فلسطینی 29 ہزار عمارتوں میں مقیم ہیں جو قابض حکومت کی بے جا پابندیوں یا رکاوٹوں کی وجہ سے اجازت نامے حاصل نہیں کرسکے۔ اس میں 15ہزار چھوٹی عمارتیں، زرعی شیڈ، کاروں کی مرمت کی دکانیں اور دیگر ڈھانچے شامل ہیں۔چھان بین سے پتہ چلتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کو تعمیرات کا اجازت نامہ حاصل کرنے میں اوسطاً آٹھ سال جبکہ اسرائیلیوں کیلئے صرف ڈھائی سال لگتے ہیں۔

































