
بیروت: حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ہمیں ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جو کسی اخلاقی اور انسانی اقدار پر یقین نہیں رکھتا اور نازیوں سے بھی بدتر ہے۔ اپنی مرحومہ والدہ کے لئے منعقدہ مجلس ختم قرآن سے خطاب میں حسن نصر اللہ نےکہا کہ میں سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے والدہ مرحومہ کی تشییع جنازہ میں شرکت نہیں کرسکا۔ تاہم آپ لوگوں کی ان مراسم میں شرکت میرے لئے باعث افتخار ہے۔ حسن نصر اللہ نے کہا کہ رفح کا قتل عام دشمن کی بربریت، بزدلی اور خیانت کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمیں ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جو کسی قدر یا اخلاق پر یقین نہیں رکھتا اور نازیوں سے بھی بدتر ہے۔ رفح کی ہولناک جارحیت سے دنیا کے تمام خاموش اور غافل لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ رفح کی جارحیت نے تمام جھوٹے نقاب الٹ دئے۔ ان تمام جھوٹے نقابوں کو نوچ لیا ہے جو اسرائیلی رجیم کو ایک ’’شائستہ حکومت‘‘ کے طور پر پہچنوانا چاہتے تھے۔ انہوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ ان وحشیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانا چاہتے ہیں جن کی بربریت کی کوئی حد نہیں ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ رفح کے حوالے سے امریکہ کی منافقت نے گزشتہ ہفتوں میں بڑا کردار ادا کیا۔ اسرائیل، عالمی برادری اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے چیلنج کرتا ہے۔ جب کہ اس عدالت نے اسے رفح پر حملے کو روکنے کا حکم دیا ہے۔ اس وحشت ناک جارحیت کی مذمت ہونی چاہیے۔ یہ خوفناک جرم غزہ کی پٹی پر جارحیت کو روکنے کے لئے اس رجیم پر دباؤ ڈالنے کا ایک مضبوط جواز ہے۔ حسن نصراللہ نے مزید کہ اسرائیل کے جرائم ہمارے اور لبنان کی حمایت کے لیے بین الاقوامی برادری اور بین الاقوامی قوانین پر بھروسہ کرنے والوں کے لئے سوالیہ نشان ہیں۔ رفح کی مائیں اور بچوں کی چیخیں ان تمام غافلوں، ناآگاہ اور حقیقت سے کوسوں دور لوگوں کو سنائی نہیں دے رہیں جو حقائق سے نظریں چرائے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذرا بین الاقوامی برادری کی حالت تو دیکھیں۔ یہ بے اختیار اور نہایت کمزور ہے اور صرف تشویش اور بیزاری کا اظہار کرنے والے بیانات جاری کرنے پر اکتفا کر بیٹھی ہے۔ البتہ رفح پر جارحیت اور دشمن کی طرف سے کی جانے والی تمام حماقتیں صیہونی رجیم کی شکست، زوال اور تباہی کا باعث بنیں گی۔

































