
تہران : ایران میں پیغمبر ختمی مرتبت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایام ولادت باسعادت اور ہفتہ وحدت کی مناسبت سے 37 ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کانفرنس میں 41 ممالک کے علما، دانشور، 110مفتیان اعظم، وزرائے اوقاف اور علمی شخصیات شریک ہوئیں۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں مسلم علما اور عمائدین نے زور دیا ہے کہ موجودہ حالات میں دشمن طاقتوں کی سازشوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ کانفرنس کے دوران سبھی مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی ممالک امت واحدہ کے تصور کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ اسلامی اتحاد کا مسئلہ ہمیشہ بہت اہم رہا ہے اور تاریخ اسلام میں اس پر غور کیا گیا ہے، عالم اسلام میں اتحاد کی اہمیت پر دن بدن زور دیا جا رہا ہے، اتحاد پر توجہ دینا ایک انفرادی اور وقتی معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک فکری نظام اور حق محور تفکر ہے۔ انہوں نے اتحاد کو ایک ایسا لائحہ عمل قرار دیا جو ملت اسلامیہ کو دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہونے کے لیے مضبوط بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ایک نئے اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل کے لیے اپنی پوزیشن تلاش کرنی چاہیئے، مقبوضہ فلسطین اور عالم اسلام کے تمام مجاہدین کے لیے آپشن یہ ہے کہ دشمنوں کے خلاف مزاحمت کریں اور ڈٹ جائیں۔ جدہ اسلامی فقہ اسمبلی کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ سانو نے کہا کہ ہم خطے کی موجودہ تقدیر ساز صورت حال میں سیاسی، اقتصادی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہم امت واحدہ ہیں، ہمارے اندر ہمہ جہت اتحاد کا جلوہ نظر آنا چاہیے اور دنیا کے تمام ممالک میں اتحاد کو فروغ ملنا چاہیے کیونکہ آج ہمیں ایسے اتحاد کی بہت ضرورت ہے۔ ترکیہ کے پروفیسر خالص ایڈمر نے کہاکہ وحدت خدا کے حقیقی منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے۔ اگر ہم اس کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کو خدائی رنگ دینا ہوگا۔ مسلمان پیکر واحد کی طرح ہیں، ہمیں خدائے لم یزل و لایزال کے نام پر متحد ہونا ہوگا۔ آج شیطان کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کے درمیان نفرت و انتشار اور فرقہ واریت کو ہوا دی جائے۔ مجھے امید ہے کہ ہم مسلمان اپنے اختلافات کو بھلا کر اسلامی وحدت کے راستے پر گامزن ہوں گے۔


































