
نیویارک : اقوام متحدہ نے ایک بار پھر طالبان سے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمتوں پر پابندی نرم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے سربراہ مالک سیزے نے افغان خواتین کو پاسپورٹ، امیگریشن، صحت کی دیکھ بھال اور زراعت کے سرکاری شعبوں میں ملامتوں کی اجازت دینے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دیگر سرکاری شعبوں اور نجی دفاتر میں بھی خواتین کی ملازمتوں پر عائد پابندیوں کو ختم کیا جائے۔ اسی طرح لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں پر پابندی بھی اُٹھائی جائے۔ امدادی ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ اسلام نے خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد نہیں کی اور نہ ہی اسلام خواتین کو ملازمتوں پر جانے سے روکتا ہے۔ انہوں نے طالبان حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ اس ماہ کے آخر میں افغانستان سے متعلق کانفرنس میں شرکت کریں۔ اس سے بحران زدہ افغانستان کی طرف عالمی توجہ واپس دلانے میں مدد ملے گی۔

































