
جنیوا : سعودی عرب نے اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو آئی اے ای اے کی سخت نگرانی میں دینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی اس اقدام کا سعودی عرب سے برسوں سے مطالبہ کررہی تھی۔اس سے وہ مکمل طور پر جوہری تحفظات کی طرف سوئچ کرے گا۔ سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے آئی اے ای اے کی سالانہ کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب نے اپنے چھوٹی مقدار کے پروٹوکول کو منسوخ کرنے اور مکمل جامع حفاظتی اقدامات کے معاہدے پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ شہزادہ عبد العزیز نے یہ نہیں بتایا کہ کیا باقاعدہ سی ایس اے کے علاوہ سعودی عرب آئی اے ای اے کے اضافی پروٹوکول پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جو کسی بھی وقت فوری معائنے کے علاوہ وسیع پیمانے پر اور مداخلت والی جانچ پڑتال کی اجازت دیتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک انٹرویو میں کہا تھاکہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کا خواہاں نہیں ہے۔ لیکن ایران نے ایٹم بم بنایا تو وہ بھی ایسا کرے گا۔


































