
واشنگٹن: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات معطل ہو نے کی بات درست نہیں ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم قریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی چینل فاکس نیوز سے انٹرویو میں محمد بن سلمان نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام پر بات چیت جاری اور اچھی ہے۔ سعودی حکومت فلسطینیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور اسرائیل کو خطے میں ایک کھلاڑی بنانے کی امید رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا حل اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے بہت اہم رہے گا۔ فلسطینیوں کے لیے اچھی زندگی دیکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب کو بھی اسے رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ ہمیں کسی بھی ملک کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا استعمال کرنے پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے ساتھ تعلقات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں اور امید ہے خطے کی سلامتی اور استحکام کے فائدے کے لیے ایسا کرتے رہیں گے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اورامریکا کے درمیان اسٹریٹیجک پارٹنر شپ دونوں کے لیے اہم اور فائدہ مند ہے۔ اوپیک کا تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ مارکیٹ کے استحکام پر مبنی ہے اور اس کا مقصد روس کو یوکرین میں اپنی جنگ لڑنے میں مدد کرنا نہیں تھا۔


































