Tue Oct 13, 2026

خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار

روزانہ کی خبریں

اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے قریب ہیں، محمد بن سلمان

واشنگٹن: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات معطل ہو نے کی بات درست نہیں ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم قریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی چینل فاکس نیوز سے انٹرویو میں محمد بن سلمان نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام پر بات چیت جاری اور اچھی ہے۔ سعودی حکومت فلسطینیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور اسرائیل کو خطے میں ایک کھلاڑی بنانے کی امید رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا حل اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے بہت اہم رہے گا۔ فلسطینیوں کے لیے اچھی زندگی دیکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب کو بھی اسے رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ ہمیں کسی بھی ملک کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا استعمال کرنے پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے ساتھ تعلقات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں اور امید ہے خطے کی سلامتی اور استحکام کے فائدے کے لیے ایسا کرتے رہیں گے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اورامریکا کے درمیان اسٹریٹیجک پارٹنر شپ دونوں کے لیے اہم اور فائدہ مند ہے۔ اوپیک کا تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ مارکیٹ کے استحکام پر مبنی ہے اور اس کا مقصد روس کو یوکرین میں اپنی جنگ لڑنے میں مدد کرنا نہیں تھا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular