
سری نگر: ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی صحافیوں نے ہندوتوا عناصر کے حق میں من گھڑت خبریں دینے سے انکار کرتے ہوئے استعفی دے دیا۔ کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق اخبارات کے مالکان صحافیوں کو حقیقی زمینی صورتحال، فوجی تشدد اور مظالم کی رپورٹنگ سے روک رہے تھے اور ہندوتوا عناصر کے حق میں من گھڑت خبریں دینے پر مجبور کر رہے تھے۔ صحافیوں نے ہندوتوا عناصر کے حق میں خبریں دینے کے بجائے نوکریاں چھوڑ دیں۔ مستعفی ہونے والوں میں جہانگیر صوفی، اشتیاق جو، شہرار بخاری اور یعقوب علی جیسے صحافی شامل ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے انگریزی روزنامہ رائزنگ کشمیر کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر رائزنگ کشمیر اور کئی دیگر اخبارات کو کشمیر مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں۔

































