
سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کشمیر کی 90 کروڑ روپے کی جائیدادیں ضبط کرلی گئیں۔پولیس اور تحقیقاتی ایجنسی نے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں 11 عمارتوں کو تحویل میں لے لیا اور ان پر ناقابل استعمال کے بینرز لگادئے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے یہ کارروائی یواے پی اے قانون کے تحت انجام دی ہے ۔عدالت کو ایس آئی اے نے آگاہ کیا تھا کہ اس نے جموں و کشمیر میں جماعت اسلامی کی 200 جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے۔ جماعت اسلامی، جموں و کشمیر کی سب سے بڑی سیاسی مذہبی تنظیم ہے، 2019 میں پابندی لگنے سے پہلے اس کے پاس اسکولوں اور دیگر سماجی انفراسٹرکچر کا بہت بڑا نیٹ ورک تھا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے جماعت اسلامی کی املاک پر قبضہ کرنے اور سرکردہ مذہبی شخصیات کو ہراساں کرنے کو حالات کو خراب کرنے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیاہے۔

































