
تہران: ایرانی وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب نے سنی علما، ججوں اور اسلامی انقلابی گارڈز کے ارکان کے قتل کی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسماعیل خطیب نے کہاکہ سازش پر 30 ستمبر کو عمل درآمد کیا جانا تھا اور اس کا مقصد نسلی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ملک کی مشرقی سرحدوں کو عدم تحفظ سے دوچار کر رہے ہیں۔ انہوں نے شیعہ اور سنی علماء کے ساتھ ساتھ متعلقہ حکام کو چوکس رہنے کی تاکید کی۔ خطیب نے حال ہی میں بم دھماکوں کی ناکام سازش پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بہت سی اطلاعات موصول ہوتی ہیں کہ دشمن ایک اور من گھڑت فسادات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران ہم نے تقریباً 400 بم تحویل میں لئے ہیں۔ جن میں 40 سے زیادہ کو محرم کے پہلے 10 دنوں کے دوران عزاداری کے اجتماعات میں استعمال ہونا تھے۔


































