
اسلام آباد : پاکستان نے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر ڈوزیئر پیش کردیا، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نےنیوزکانفرنس میں بتایا کہ 131 صفحات کے ڈوزیئرکے پہلے باب میں بھارت کے جنگی جرائم، دوسرے میں فالس فلیگ آپریشنز جبکہ تیسرے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بھارت کی مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشششوں کا ذکر ہے، شاہ محمود نے کہا کہ جب سے ہندوتوا حکومت آئی ہے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ ہو گیا ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں بھارتی فوج کے میجر جنرل، بریگیڈیئر اور دیگر سینیئر افسران شامل ہیں، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے، بھارت کشمیریوں کی آواز دبا رہا ہے ، جب سے ہندوتوا حکومت بھارت میں آئی ہے ان پامالیوں میں اضافہ ہو گیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے محاصرے کو 769 دن ہو چکے ہیں، بھارت کی 9 لاکھ افواج مقبوضہ وادی پرمسلط ہیں، آزاد مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں، آج کی دنیا میں انسانی حقوق کا پرچار ہوتا ہے، انسانی حقوق کو اس انداز میں پامال کرنا نامناسب ہے، وزیر خارجہ نے کہا کہ سید علی گیلانی طویل عرصہ قید و بند میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے، سید علی گیلانی کے انتقال پر دنیا نے دیکھا کہ بھارت کی سوچ کیا تھی، سید علی گیلانی کی وفات کے بعد ان کے گھر کے تمام راستے بند کر دیئے گئے،حریت رہنما سید علی گیلانی کے گھر کو گھیرے میں لیا گیا، یہ صورت حال دیکھ کر دنیا میں بسنے والے ہر کشمیری کو تکلیف ہوئی ، ہر پاکستانی اس افسوسناک واقعے کے بعد کرب میں مبتلا تھا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ڈوزیئر میں ان 1128 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسانی حقوق کی پامالیوں میں براہ راست ملوث رہے ہیں، ان میں بھارتی فوج کے میجر جنرل، بریگیڈیئر اور دیگر سینیئر افسران شامل ہیں، اس ڈوزیئر میں ماورائے عدالت قتل، پیلٹ گنز کا استعمال، خواتین کی بے حرمتی اور جلائی گئی املاک کا بھی ذکر ہے۔ ڈوزیئر میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں پیلٹ گنز کا استعمال، متاثرہ بچوں کی ویڈیوز اور کیمیکل ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے ثبوت بھی شامل ہیں۔


































