
اسلام آباد : چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے زائرین امام حسین پر زمینی راستوں کی بندش کے غیر قانونی حکومتی فیصلے کے خلاف دیگر مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک مسلکی پاکستان نہیں، ریاست کو اپنے شہریوں کو سہولت دینا چاہیے۔ زائرین کو روکنے کیلئے کسی اسٹیک ہولڈر سے مشاورت نہیں کی گئی. انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کچھ دن قبل ایران گئے جہاں ایران اور عراق کے وزراء بیٹھے اور زائرین کی خدمت کیلئے اقدامات کے حوالے سے بات چیت کی گئی، ملاقاتوں کے کچھ عرصے بعد یہ پتا چلا کے زائرین زمینی راستوں سے زیارات پر نہیں جاسکتے، کیا آپ کو رات ہی رات پتا چلا کے زائرین کا زمینی راستے سے جانا سیکیورٹی رسک ہے؟ اس سے پہلے حکومت کی نااہلی کی وجہ سے 67 ہزار لوگ حج سے محروم رہ گئے اور اب حکومت زائرین کو زیارات پر جانے سے روک رہی ہے، حکومت کی غفلت کی وجہ سے پہلے حجاج اور اب زائرین زیارات پر جانے سے محروم ہو رہے ہیں، پاکستان کا آئین مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے یہ لوگ زمینی راستہ روک کر آئینی، مذہبی حق سے محروم کر رہے ہیں، حکومت اگر زمینی راستہ روک رہی ہے تو اسکا متبادل راستہ دینا چاہیے تھا، اگر زمینی راستے پہ سکیورٹی رسک تھا تو فضائی یا سمندری راستہ کو استعمال کیا جاسکتا تھا، مگر حکومت نے زائرین کو زیارات پر جانے سے ہی روک دیا، حکومت کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے، اگر حکومت راستہ ہی محفوظ نہیں بنا سکتی تو اسکا مطلب ہے کہ حکومت فیل ہو چکی ہے، یہ کیسی حکومت ہے کہ جو عوام کے راستے تک محفوظ نہیں کر سکتی، زیارات پر جانا ہمارا بنیادی حق ہے ہم اس سے عوام کو محروم نہیں ہونے دیں گے، یہ کوئی سیاسی احتجاج نہیں بلکے امام حسین علیہ السلام کے عشق میں ہوگا، لوگ احتجاج کریں گے اور اسکی ذمہ دار حکومت ہوگی، صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کہاں ہیں؟ عوام سڑکوں پر بیٹھی ہوئی ہے، ہم ہرگز غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقدام کو قبول نہیں کریں، پورے پاکستان میں پرامن احتجاج ہوں گے، لوگ اپنے حقوق کیلئے نکلیں گے، پورے پاکستان کے اہل تشیع برادری ایک پلیٹ فارم پر اکھٹی ہوکر احتجاج میں شریک ہیں، زائرین کی گمشدگی کے حوالے سے بیان پر وزارت مذہبی امور کو معافی مانگنی چاہیے، یہ زیارات کیخلاف پروپیگنڈہ ہے، اسرائیل اور امریکہ نہیں چاہتے کہ لوگ زیارات پر جاہیں.
انہوں نے کہا کہ راستوں کو محفوظ نہیں کرسکتے تو آپ لوگ کس لئے ہیں، ذمہ دار حکومتی لوگ کہتے ہیں کہ ہماری بات نہیں سنتے، جی بی سے لیکر پورے پاکستان میں احتجاج کرینگے احتجاج ایک دن کیلئے نہیں ہوگا جاری رہینگے۔ اس حوالے سے کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہو جائے تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ جتنے بھی ممکنہ راستے ہونگے ہم اپنے حق کیلئے استعمال کرینگے، پاکستان تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہیں، حکومت کو اس کا حل نکالنا ہوگا، امام حسین کے اربعین سے یہ لوگ خوفزادہ ہیں، شیعہ علماء کونسل اور ہم ایک ہیں دونوں مل کر احتجاج کرینگے، حکومت اگر سہولت دیے تو زائرین پاکستان سے سمندری راستے کے ذریعے بھی جاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چہلم امام حسین ع پر جانا کوئی سیر سپاٹا نہیں ہماری مذہبی عبادت اور عقیدت سے منسلک ہے، ریاست مذہبی رواداری کے لئے سہولیات فراہم کرتی ہے، وزیر داخلہ رات کو سوئے صبح اٹھے تو پتہ چلا سکیورٹی مسائل ہیں، یہ کس کے اشاروں پر زائرین سید شہدا امام حسین ع کا راستہ روکا گیا ہے، بائے ائر ٹکٹ راتوں رات مہنگے کر دئے گئے ہیں، زائرین کو سہولت دینے کیلئے کوئی بات نہیں کر رہے ہیں، وزیر داخلہ ٹویٹ کر کے غائب ہو چکے ہیں، راستے محفوظ نہیں کر سکتے تو حکومت سے اتر جائیں، مذہبی آزادی پر قدغن لگانا آئین کے آرٹیکل 20 کی خلاف ورزی ہے، جی بی سے لیکر کراچی تک پورے پاکستان میں دھرنے اور پر امن احتجاج کرینگے.


































