
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نےکہا ہے کہ غزہ میں ہولناک جرائم پر اقوام عالم بالخصوص مسلم ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تعلقات منقطع کرنے چاہییں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور کابینہ کے ارکان سے ملاقات میں ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ صیہونی فوج بغیر کسی شرم کے متعدد جرائم اور حیران کن تباہ کاریاں کر رہی ہے۔ یہ جرائم امریکا جیسے ملک کی حمایت سے کیے جا رہے ہیں، لیکن صورتحال کا مقابلہ کرنے کا راستہ بند نہیں ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو دنیا کی سب سے زیادہ تنہا اور نفرت زدہ حکومت قرار دیا اور کہا کہ ایران کی سفارت کاری کی ایک اہم سمت دیگر ممالک کو اس مجرمانہ فوج کے ساتھ سیاسی اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے پر زور دینا ہونا چاہیے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایرانی عوام کی معیشت اور زندگی کے حالات کو بہتر بنانے کو ترجیح دیں۔ ملک میں محنت، کارکردگی اور امید کی فضا کو دشمن کی طرف سے مسلط کردہ جنگ اور صلح کے درمیان کشمکش کی حالت پر غلبہ دلانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی معیشت آج کے سب سے اہم مسائل میں سے ایک ہے اور حکومت کو اس میدان میں فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ عوام کی معیشت اور روزمرہ زندگی سے وابستہ مسائل حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے قیمتوں میں بے قابو اضافے کو عوام کے لئے سنگین مسئلہ قرار دیا اور تاکید کی کہ حکومت بازار پر ایسا کنٹرول قائم کرے کہ لوگ مہنگائی اور بےاعتمادی کا شکار نہ ہوں۔ ضروری اجناس کی ذخیرہ اندوزی روکنا، عوام کو کم از کم دس بنیادی اشیا مناسب قیمت پر فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صنعتیں ملک کی اقتصادی ترقی کی کلید ہیں، اس لئے کارخانوں اور صنعتوں کی سرگرمی کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے اور ان کی بجلی یا دیگر سہولیات بند نہ کی جائیں۔ انہوں نے ملک میں قائم اتحاد اور ہم آہنگی کی فضا کو قیمتی موقع قرار دیا اور کہا کہ ریاست کے تینوں ستونوں کے درمیان تعاون قابل ستائش ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر حکومت کو ایسے ادارے ختم کرنے چاہئیں جن کی موجودگی یا غیر موجودگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔


































