
جنیوا : اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ جنگ میں چالیس ہزار پانچ سو بچے زخمی ہیں جس میں سے اکیس ہزار معذور ہوچکے ہیں۔ معذور افراد کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے بتایا کہ معذور افراد کو غیر محفوظ اور غیر معمولی حالات میں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے بتایا کہ غزہ میں انسانی امداد لانے پر عائد پابندیاں معذور افراد کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہیں امداد کے حصول میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے، بہت سے افراد کو خوراک، صاف پانی، یا صفائی کے بہتر انتظام کے بغیر دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے بتایا ہے کہ 83 فیصد معذور افراد معاونت فراہم کرنے والے آلات سے محروم ہو چکے ہیں۔ اِن میں سے زیادہ تر کے پاس گدھا گاڑی جیسا آمدورفت کا متبادل ذریعہ بھی نہیں ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ویل چیئرز اور واکرز سمیت معذور افراد کے استعمال کے دیگر آلات کو اسرائیلی حکام نے خطرناک اشیا کی فہرست میں شمار کیا اور انہیں امدادی سامان میں شامل نہیں کیا۔


































