
کابل : افغانستان بھوک کی ہنگامی سطح کا سامنا کرنے والے سرفہرست 10 ممالک میں دوسری پوزیشن پر آگیا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام(ڈبلیو ایف پی) کے مطابق افغانستان میں دس لاکھ افراد بھوک کی ہنگامی صورتحال سے دوچار ہیں 68 لاکھ افراد کو خوراک کی قلت کے چوتھے مرحلے کا سامنا ہے. ڈبلیو ایف پی افغانستان کے ترجمان وحید اللہ امانی نے بتایا کہ تنظیم کو اپنی امداد 13 ملین سے کم کرکے 2 ملین کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ تنظیم کو رواں ماہ میں بجٹ کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، اور ہمیں اپنی امدادی فہرست سے مزید 20 لاکھ افراد کو نکالنا پڑا۔ اس وقت ہم صرف 30 لاکھ لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ ڈبلیو ایف پی افغانستان کی طرف سے جاری کی گئی ہنگامی سطح پر بھوک کے شکار ممالک کی فہرست میں سوڈان سرفہرست ہے۔ جبکہ جمہوریہ کانگو، بنگلہ دیش، پاکستان، صومالیہ، ہیٹی، کینیا اور نائجیریا بھی فہرست میں شامل ہیں۔


































