
کویت سٹی: کویت میں پانچ سال کے دوران پہلی بار دو خواتین سمیت سات افراد کو پھانسی دے دی گئی ۔جن افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا ان میں تین مقامی اور دو پاکستانی اور شامی افراد جبکہ کویت اور ایتھوپیا کی دو خواتین شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے خواتین کو معافی کی درخواست کی تھی جسے ردکردیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ تمام افراد پر قتل کا الزام تھا اور ان کی سزائے موت پر عملدرآمد مرکزی جیل میں کیا گیا تاہم انہوں نے اس طریقےکی نشاندہی نہیں کی جو سزا پرعملدرآمد کیلئے استعمال کیا گیا۔ پبلک پراسیکیوشن نے ایک بیان میں کہا کہ متاثرین کو دنیا میں ان کے سب سے مقدس حق زندگی سے محروم کر دیا گیا۔ یورپی یونین نے سزائے موت پر تنقید کرتے ہوئے کویت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ظالمانہ اور غیر انسانی سزا پر عملدرآمد ختم کرے۔

































