
غزہ : اسرائیلی فوج کے خفیہ "گھوسٹ یونٹ” کے اسنائپرز نے غزہ میں فلسطینی شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا اعتراف کرلیا۔ برطانوی اخبار گارڈین کی عرب رپورٹرز فار انویسٹی گیٹو جرنلزم ۔ پیپر ٹریل میڈیا۔ ڈیر اسپیگل اور زیڈ ڈی ایف کے تعاون سے کی گئی تحقیقات میں اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔
گیارہ رکنی گھوسٹ یونٹ میں تین امریکی۔ دو فرانسیسی اور بیلجیئم، جرمنی، جنوبی افریقہ، اٹلی، ایتھوپیا اور آذربائیجان کے شہری شامل ہیں۔ پانچ ماہ سے جاری تفتیش میں تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیلی فورسز نے 22 نومبر 2023 کو غزہ شہر کے تل الہوا کے پڑوس میں شہریوں کو ہلاک کیا۔ عینی شاہدین کے اکاؤنٹس۔ میڈیکل ریکارڈز۔ موت کے سرٹیفیکیٹس اور جغرافیائی محل وقوع کے ویڈیو شواہد نے نتائج کی تصدیق کی ہے.
ایک امریکی نژاد اسنائپر ڈینیل راب نے بتایا کہ اس نے 105 غیر مسلح فلسطینیوں کو قتل کیا جس پراسے کوئی شرمندگی نہیں۔ ان میں انیس سالہ دوغمش اور اس کا بھی شامل ہے جسے بھائی کی لاش مانگنے پر گولی ماری گئی۔


































