
تہران :ایران کے وزیر خارجہ امیر عبد اللہیان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ گفتگو میں ایران کے معاملے میں انسانی حقوق کونسل کا اجلاس بلانے کی کوششوں کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ کونسل کے اس سیاسی اقدام کا مغرب کے ساتھ ایران کے تعاون پر برا اثر پڑے گا۔ انٹونیو گوتیرس کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں امیر عبد اللہیان نے مغربی ممالک کے دہرے معیار اور منافقانہ رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کا اجلاس اُن ممالک کے لئے بلایا جانا چاہئے جو انتہا پسندی اور دہشت گردی کو عام کر رہے ہیں نہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے کہ جو حقیقی معنیٰ میں انسانی حقوق کا محافظ ہے اور حالیہ بلووں میں اُس نے نہایت درجہ رواداری سے کام لیا ہے۔وزیر خارجہ نے بعض ممالک کے غیر تعمیری اقدامات اور موقف پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے برعکس بعض مخصوص مغربی ممالک نے ایران میں عوامی احتجاج سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر انتہاپسندی، اسلحوں اور دستی بموں کی ساخت کی ترغیب دلائی جس کے باعث پولیس کو جانی نقصان اٹھانا پڑا اور ایران بد امنی کا شکار ہوا، یہاں تک کہ دہشت گرد گروہ داعش کے اقدام کے لئے زمین ہموار ہوئی۔اس سے قبل بھی امیر عبد اللہیان نے یو این سیکریٹری جنرل کو مراسلہ بھیج کر سلامتی کونسل کی جانب سے شیراز میں داعش کے دہشتگردانہ اقدام کی مذمت نہ کرنے پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ کونسل کے بعض اراکین نے اب بھی دہشتگردی کو اچھی اور بری میں تقسیم کر رکھا ہے.

































