Tue Oct 13, 2026

خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار

روزانہ کی خبریں

بھارت: 6 ماہ میں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز تقاریر کے 250 واقعات

نئی دہلی: ہندوستان میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو فروغ دینے والے 250 سے زیادہ دستاویزی اجتماعات ہوئے۔ ہندوتوا سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ہندوتوا واچ کی چھ ماہی رپورٹ میں ہندوستان کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کیلئے ریئل ٹائم ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ نفرت انگیز تقریر کے واقعات کو دستاویز کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق 17 صوبوں میں اوسطا یومیہ ایک سے زیادہ واقعات پیش آتے ہیں۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ نفرت انگیز تقاریرکے ان واقعات میں سے زیادہ تر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے خطرناک سازشی نظریات کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ جس میں تشدد کیلئے اکسانا ہتھیار رکھنے کی اپیل اور مسلم کمیونٹی کے سماجی و اقتصادی بائیکاٹ کے مطالبات شامل ہیں۔ ہندوتوا واچ کی رپورٹ 2014 کے بعد ہندوستان میں مسلم مخالف جذبات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کرتی ہے۔ جس کا تعلق ہندو قوم پرست نظریات کے لیے مشہور بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس مسئلے پر توجہ دینے کے بجائے کئی حکومتی نمائندے اکثر اس طرح کی بیان بازی میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular