
واشنگٹن: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل بیان کئے گئے واقعہ سے کہیں زیادہ منظم تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ سکھ رہنما کے قتل میں تین نہیں چھ افراد ملوث ہیں جبکہ واردات میں دو گاڑیاں استعمال ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق 90 سیکنڈ کی ویڈیو میں ایک سفید سیڈان سے دو ملزمان کو اتر کر فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ملزمان نے 50 گولیاں برسائیں جن میں سے 34 ہردیپ سنگھ نجر کو لگیں۔ فائرنگ کے بعد ملزمان بھاگ کر ایک اور سلور کار میں بیٹھ گئے۔ جو ان کی منتظر تھی۔ اس کار میں تین ملزمان پہلے ہی موجود تھے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کینیڈین پولیس نے عوام سے صرف دو ملزمان اور ایک گاڑی سے متعلق معلومات کیں۔ جبکہ سفید گاڑی اور اس میں موجود دیگر ملزمان کا تذکرہ ہی نہیں کیا۔ 45 سالہ ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون کو کینیڈا کے شہر سرے میں گوردوارے کے باہر قتل کیا گیا تھا۔


































