
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے سے متعلق آئین میں ترمیم کے لئے باضابطہ بل تیار کرلیا، مجوزہ ترمیمی بل کا عنوان26ویں آئینی ترمیم بل2021 ہوگا، جس میں چیف کورٹ گلگت بلتستان کو ہائی کورٹ گلگت بلتستان کا نام دینے کی تجویز دی ہے، جب کہ سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کو ختم کیا جائے گا، ہائیکورٹ گلگت بلتستان کے ججز کی تعداد 5 ہی رہے گی اس میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا، گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کو ختم کیا جائے گا تاہم اس کے ایک رکن کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ممبر بنایا جائے گا، موجودہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کو اس کی مدت ختم ہونے تک الیکشن کمیشن آف پاکستان کا رکن برقرار رکھا جائے گا، ترمیمی بل میں گلگت بلتستان اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 33 ہی برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے، جس میں سے 24 جنرل، 6 خواتین جبکہ 3 ٹیکنوکریٹس کی نشستیں ہوں گی، گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی میں 4 نشستیں دینے کی تجویز دی گئی ہے جس میں سے 3 جنرل نشستیں جبکہ خواتین کے لئے ایک نشست رکھنے کی تجویز دی ہے، گلگت بلتستان کو سینیٹ میں بھی 4 سیٹیں دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں 2 جنرل سیٹیں، ایک خواتین کی اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست شامل ہے، سینیٹ میں گلگت بلتستان کی نمائندگی کے حوالے سے وزیراعلی گلگت بلتستان و وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے عدم اتفاق کرتے ہوئے دیگر صوبوں کے برابر نمائنددگی دینے کی بات کی ، جس پر اتفاق نہ ہونے پر یہ تاکید کی کہ سینیٹ میں گلگت بلتستان کو 8 جنرل، ایک خواتین اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست دی جائے تاہم زرائع کا کہنا ہے کہ اس پر وزیراعظم سے وزیر اعلی خالد خورشید کی مشاورت کے بعد یہ اتفاق ہوا کہ گلگت بلتستان کو سینیٹ میں 8 سیٹیں دی جائیں۔


































