Thu Oct 22, 2026

خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر مکمل انحصار نہیں کرسکتے، ٹام بیرک مدر آف آل بمز بھی ایرانی جوہری تنصیبات تباہ نہیں کر سکتا، ٹرمپ کا مقصد جھوٹی فتح کا اعلان کرنا ہے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات سعودی عرب کی شیبہ آئل فیلڈ پر حملے میں 2 افراد ہلاک نیتن یاہو اور ٹرمپ کا زوال قریب ہے، جنرل شکارچی ہماری نگرانی کے بغیر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں، امریکا کی سعودی عرب کو سخت تنبیہ جنگ چھیڑ کر دنیا میں افراتفری پھیلانے والا ملک خود کو مظلوم ظاہر نہیں کر سکتا، اسماعیل بقائی یمنی فوج کی پیشقدمی، تعز کے 11 اضلاع سے سعودی ملیشیا کو نکال دیا گیا ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا میں دفاعی تعاون کا سمجھوتہ دھمکیوں اور پابندیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں، ایرانی صدر پاکستان اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، منظوری کیلئے بل ترک پارلیمنٹ میں پیش فیلڈ مارشل اور ایرانی سیکورٹی چیف کی ملاقات، افزودہ یورینیم ایران سے باہر نہیں جائے گی، رضائی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، میاں بیوی اور 17 سالہ نوجوان سمیت 4 فلسطینی شہید سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ، 53 افراد ہلاک؛ خواتین اور بچے بھی نشانہ بن گئے پنجاب کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی، نیا آرڈیننس نافذ

روزانہ کی خبریں

غزہ: جہاد اسلامی کے 35 ویں یوم تاسیس پر جشن کی تقریبات

فلسطین کی مقاومتی تحریک "جہاد اسلامی” نے اپنے قیام کی پینتیسویں سالگرہ پر اس امر کی تجدید کی کہ صیہونی حکومت کا ایک ہزار سال تک بھی مقابلہ کریں گے۔ جہاد اسلامی فلسطین نے اپنے 35ویں یوم تاسیس کی مناسبت سے مغربی غزہ میں جشن منایا۔ اس حوالے سے عرب میڈیا نے رپورٹ دیتے ہوئے بتایا کہ جشن کی یہ تقریبات غزہ کے علاوہ دیگر شہروں جیسے جنین، صیدا، دمشق اور صنعاء میں بھی منعقد کی گئیں۔ یہ تقریبات "ہماری جنگ قدس کی آزادی تک جاری ہے” کے عنوان سے منعقد کی گئیں۔ جہاد اسلامی کے سربراہ "زیاد النخالہ” نے اس تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کو فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف جنگی مساوات سے نکالنے کے لئے دشمن کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن جہاد اسلامی فلسطینی عوام کے اتحاد کو بچانے کے لئے ان تقریبات کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس نمائش میں جہاد اسلامی کے ہزاروں حامیوں نے شرکت کی۔ اس تقریب میں دیگر فلسطینی مقاومتی گروہوں کے ارکان بھی موجود تھے۔ دوسری جانب زیاد النخالہ نے کہا کہ دشمن کے خلاف مقاومتی مرکز کو مضبوط کرنے میں ہی فلسطینی قوم کا فائدہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام فلسطینی قومی گروہ متحد ہو جائیں, کیونکہ دشمن اور اس کے حواری پوری طاقت کے ساتھ ہمیں گھیرنے کے چکر میں ہیں۔ جہاد اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ دشمن امن کا متلاشی نہیں ہے اور نہ ہی مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو کچھ دینا چاہتا ہے بلکہ دشمن ہمیں نا امید کرنا چاہتا ہے، ہمارا ارادہ توڑنا چاہتا ہے، لیکن ہم اپنی اور اپنے وطن کی آزادی کی تلاش میں ہیں۔
جہاد اسلامی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ فلسطینی قوم کو صیہونیوں کے خلاف جدو جہد کرتے ہوئے 74 سال ہوچکے ہیں، ان چوہتر سالوں میں صیہونی حواس باختہ ہوچکے ہیں اور ان کے سربراہان یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ غلط جگہ آ کھڑے ہوئے ہیں۔ زیاد النخالہ نے کہا کہ قدس میں صیہونیوں کے مذموم مقاصد کو اکھاڑ پھینکیں گے اور ان کے مکمل اخراج تک ان سے جنگ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد اسلامی کا فیصلہ ہے کہ دشمن کے خلاف مستقل جنگ اور جدوجہد کی جائے، چاہے یہ جدوجہد ایک ہزار سال تک جاری رکھنی پڑے۔ یہ مسئلہ ہماری شرعی ذمے داریوں میں سے ہے، جیسے نماز ہم پر واجب ہے۔ لہٰذا جب تک اسرائیل ہماری سرزمین سے نکل نہیں جاتا، جہاد بھی اپنی جگہ پر باقی رہے گا۔

مزید پڑھیے

Most Popular