
اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو پریشان کن قرار دیا ہے امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں افراتفری اور پناہ گزینوں کے مسائل کا خدشہ ہے افغانستان کو دہشت گردی کا بھی سامنا ہوسکتا ہے، وہاں کیا ہوگا، میں کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا ہے، طالبان چاہتے ہیں عالمی برادری انہیں تسلیم کرے عمران خان نے کہا کہ افغانستان اس وقت تاریخ ساز موڑ پر ہے، ہمیں افغانستان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہاں صورت حال کنٹرول میں رہے یہ سوچنا غلط ہے کہ کوئی باہر سے آکر افغان خواتین کو حقوق دلا سکتا ہے، افغان خواتین مضبوط ہیں، انہیں وقت دیں، وہ اپنےحقوق خود حاصل کرلیں گی انہوں نے کہا کہ امریکا نے کبھی نہیں سمجھا کہ حقانی نیٹ ورک کیا ہے، حقانی قبائل افغانستان میں رہتے آئے ہیں، یہ مجاہد تھے، انہوں نے سویت یونین کے خلاف جہاد کیا عمران خان نے مزید کہا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن سے بات نہیں ہوئی ہے امریکا کے ساتھ نارمل تعلقات چاہتے ہیں، جو بائیڈن نے فون نہیں کیا، وہ مصروف شخصیت ہیں وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ اگر میں نائن الیون کے وقت وزیراعظم ہوتا تو افغانستان پر امریکی حملے کی اجازت نہیں دیتا۔


































