
بارکھان: بارکھان میں مسلح افراد نے بس سے اتار کر 7 مسافروں کو قتل کر دیا. سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے شہر بارکھان کے علاقے رڑکن میں مسلح افراد نے قومی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے مسافر کوچ کا روکا اور 7 مسافروں کو اتار کر فائرنگ کا نشانہ بنایا، مسافر بس کوئٹہ سے فیصل آباد جا رہی تھی۔
اسسٹنٹ کمشنر بارکھان خادم حسین نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسافروں کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد گولیاں مار کر قتل کیا گیا، جاں بحق افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔ اے سی کا کہنا تھا کہ واقعہ کی اطلاع پر لیویز اور ایف سی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقہ کی ناکہ بندی کر دی گئی، قتل عام کے بعد مسلح افراد موقع سے فرار ہوگئے۔
اسسٹنٹ کمشنر بارکھان نے مزید بتایا کہ رکنی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، ضلعی انتظامیہ نے چھپر اور کنگری کے مقام پر ٹریفک کو روک دیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بارکھان کے علاقے میں دہشتگردی کے واقعہ کی شدید مذمت کی اور 7 مسافروں کو قتل کرنے کے افسوسناک واقعہ پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک دشمن عناصر عدم استحکام پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہے ہیں، قوم کی حمایت سے ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مسافروں کے قتل کی شدید مذمت کی اور کہا دہشت گرد معصوم اور نہتے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، امن دشمنوں کا بزدلانہ وار ناقابل برداشت ہے، سخت جواب دیا جائے گا، پاکستانیوں کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کو انجام تک پہنچائیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل 26 اگست 2024 کو بلوچستان کے ضلع موسٰی خیل کے علاقے راڑہ شم کے مقام پر ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتارکر شناخت کے بعد 23 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔


































