
لکھنؤ : ہندوستان میں ہندو توا عناصر کے ایک اور لیڈر یتی نرسہمانند نے قرآن کی توہین کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی طرح ہندوستان میں بھی کوئی مدرسہ نہیں ہونا چائیے، تمام مدارس اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بموں سے اڑا دینا چاہئے۔ اور ان میں پڑھنے والوں کو ایسے حراستی مراکز میں بھیجا جانا چاہئے جہاں ان کے دماغ سے قرآن نکال دیا جائے(نعوذ بااللہ)۔ شاتم اسلام یتی نرسمہانند نے یہ توہین آمیز بیان اتر پردیش کے غازی آباد میں ہندو مہاسبھا کی ایک تقریب میں دئے۔ یتی نرسہمانند کے خلاف علی گڑھ پولیس نے مدرسے کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے والے بیان پر مقدمہ درج کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ یہ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ایک اور نفرت انگیز بیان ہے۔ نرسہمانند ماضی میں بھی نفرت انگیز تقریر کے معاملات میں ملوث رہا ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں اس کے خلاف ہریدوار میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

































