
ماسکو: بحیرہ اسود میں روسی بحری بیڑے پر حملے کے بعد روس اور برطانیہ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔روسی وزارت خارجہ نے الزام لگایا ہے کہ بحری بیڑے پر یوکرین کے حملے کی تیاری میں برطانوی ماہرین نے حصہ لیا تھا۔ فوجی اہلکاروں کو تربیت دینے میں برطانوی ماہرین شریک تھے۔ روسی وزرات خارجہ نے ماسکو میں برطانوی سفیر ڈیوبرا بورنیٹ کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ تھمادیا۔ڈیوبرا کی دفترخارجہ آمد کے موقع شہریوں نے برطانیہ کیخلاف مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا برطانیہ ایک دہشت گرد ریاست ہے ۔روس نے برطانیہ پر نارڈ اسٹریم آئل پائپ لائن پر حملوں میں حصہ لینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ برطانیہ نے روس کے دونوں الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور اسے صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے یوکرین پر حملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

































