
A Pakistani labourer carries a bag of sugar through a market in Karachi on April 30, 2008. UN Secretary General Ban Ki-moon on April 29, ordered a top level task force to take on the global crisis caused by rising food prices and urged key producer nations to end export bans. Rising populations, strong demand from developing countries, increased cultivation of crops for biofuels and increasing floods and droughts have sent food prices soaring across the globe. AFP PHOTO/ Rizwan TABASSUM (Photo by RIZWAN TABASSUM / AFP)
کراچی: پاکستان میں بجلی کے بعد اب چینی کے بحران نے سر اٹھالیا ہے۔ معاشی حالات ان دنوں شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں۔بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کیخلاف پورے ملک میں عوام سراپا احتجاج ہیں ایک ہفتے سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ احتجاج کے باوجود حکومت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تناظر میں عوام کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ ابھی بجلی بحران کا معاملہ تھما نہیں تھا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کے غم وغصہ کو بڑھادیا ہے۔ ایک ہفتے میں چینی کی قیمت 180 روپے تک جاپہنچی ہے۔ ہول سیل تاجر اور مل مالکان یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ چینی افغانستان اسمگل کی جا رہی ہے۔ چینی کی کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے۔


































