
غزہ : غزہ میں بموں کی برسات کے بعد بہت بڑے خوراک کے بحران نے سر اُٹھالیا۔ عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کو خوراک کے بحران اور بڑے پیمانے پر بھوک کا سامنا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ضرورت کی صرف 10 فیصد اشیا غزہ میں داخل ہوئی ہے۔خوراک اور پانی کی ترسیل نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ادارے کے مطابق بڑھتی ہوئی سردی، غیر محفوظ اور بھیڑ والے گھر اور صاف پانی کی کمی کے باعث عام شہریوں کو فوری قحط کے خطرے کا سامنا ہے۔ خوراک کی ضروریات صرف ایک فعال بارڈر کراسنگ سے پورا کرنا ناممکن ہے۔ ایک اور راستہ کھولنا ہوگا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت کی وجہ سے ان کے اشتراک سے کام کرنیوالی تمام 130 بیکریز بند ہوگئی ہیں۔ ایندھن کے بحران نے انسانی ہمدری کی بنیاد پر امداد کے آپریشن اور خوراک کی تقسیم کو بھی بری طرح سے متاثر کیا ہے۔


































