
تہران : ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ایٹمی معاہدے کو بحال کرنے کے مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں کہا کہ ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مختلف موضوعات پر مشترکہ فہم پایا جاتا ہے اور اس سے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے حتمی مراحل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ امیر عبداللہیان نے کہا کہ امریکی فریق کو پہلے ایک مسئلہ درپیش تھا وہ یہ کہ اسے صورتحال کا صحیح اندازہ نہیں تھا۔ ہمیں لگتا ہے کہ امریکی فریق اب پیغامات کے تبادلے میں بہتر سمجھ بوجھ کے ساتھ موجود ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں اگر امریکہ اسی راستے پر گامزن رہے جس کے متعلق گزشتہ دنوں پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے اور اس مسئلے پر جو قدرے مشترک تفہیم پیدا ہوئی ہے اس کو اسی حقیقت پسندانہ انداز میں آگے بڑھائے تو ایران اور دیگر تمام فریقوں کے مابین معاہدہ ممکن ہو گا۔ ایران ایک ایسے معاہدے کو قبول کرے گا جو اس کے اقتصادی فوائد کی ضمانت دے اور ملک کی ریڈ لائنز کو عبور نہ کرے ۔

































