
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے چہلم سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے لبنان کے شہر بعلبک میں منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اس خطاب میں انہوں نے عراق سمیت دنیا کے کثیر ممالک میں انجام پانے والی اربعین مشی سمیت کئی اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے عراق میں 50 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے باوجود اربعین سید الشہداء علیہ السلام کے موقع پر دنیا بھر سے کروڑوں عقیدت مندوں کی کربلا آمد کو معجزہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو کروڑ زائر کا مطلب یہ ہے کہ دو کروڑ دل امام حسین علیہ السلام کی محبت میں دھڑک رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم یزید کے دربار میں امام زین العابدین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے موقف کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں یہ اہم ترین سبق ملتا ہے کہ مصیبت جس قدر بھی عظیم ہو اور حالات جس قدر بھی سخت ہوں، مومن ہر گز کمزور نہیں ہوتا اور ہتھیار نہیں ڈالتا۔
سید حسن نصراللہ نے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے چالیس سال قبل صبرا اور شتیلا میں انتہائی بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں اور لبنانیوں کے قتل عام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قتل عام میں نہ صرف 3500 فلسطینی شہید ہوئے بلکہ 1900 لبنانی بھی شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صبرا اور شتیلا کا قتل عام، عرب اسرائیل جنگوں کی پوری تاریخ کا سفاکانہ ترین قتل عام تھا اور اس کے مجرموں کو بھی کوئی سزا نہیں مل سکی۔” حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے ایسے افراد کے جواب میں جو یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ "ہمارا لبنان تمہارا لبنان نہیں ہے”، کہا کہ صبرا اور شتیلا آپ کی ثقافت کا حصہ ہے اور ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ آپ جیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ کی انتقام لینے پر مبنی گھٹیا ثقافت کے مقابلے میں ہماری ثقافت زندگی اور حیات ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اپنے علاقے آزاد کروانے کے بعد مدمقابل سے انتقام نہیں لیتے۔

































