
ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی آرمی چیف سے ملاقات، خطے میں امن و سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال، علاقائی تعاون کے فروغ میں بھی مدد ملے گی، دفترخارجہ
جواد ظریف کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں بہتربارڈر مینجمنٹ،دوطرفہ روابط کے فروغ،زائرین کو بہتر سہولیات کی فراہمی پرتبادلہ خیال،افغان امن عمل پر اتفاق
اسلام آباد(نیوزڈیسک)ایران کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان اور ایران نے سیکیورٹی اور سرحدی تعاون کے فروغ اور افغانستان میں امن اورخطے کے استحکام کیلئے مشترکہ کاوشوں پراتفاق کیا ہے، وزارت خارجہ میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف اور پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی نے بہتربارڈر مینجمنٹ،دوطرفہ روابط کے فروغ،زائرین کو بہتر سہولیات کی فراہمی پرتبادلہ خیال کیا، ملاقات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ ،کورونا صورتحال اور دیگر امور پر بھی بات ہوئی، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین گہرے دیرینہ، تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، مذاکرات کے اس موقع کوکسی صورت ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے، افغانستان میں دیرپا اورمستقل امن،خطے میں امن و استحکام کیلئے انتہائی اہم ہے، اس سے پہلے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل باجوہ سے ملاقات کی،جس میں دوستانہ تعلقات، سرحدی امور،دفاع کے معاملات زیرغورآئے، خطے میں امن و سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، وزارت خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کو دوطرفہ اور علاقائی تعاون کے استحکام کی راہ میں ایک قدم قرار دیا ہے ،انہوں نے کہا کہ اس دورے سے دونوں ملکوں کے آپسی تعاون کے علاوہ علاقائی تعاون کے فروغ میں بھی مدد ملے گی ، ایران اور پاکستان کے انتہائی گہرے اور قریبی تعلقات ہیں جو باہمی اعتماد کی بنیاد پر استوار ہیں اور ان کی جڑیں مشترکہ ثقافت و مذہب میں پیوست ہیں،اس دورے سے دونوں ملکوں کا آپسی تعاون پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگا۔


































