
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے فسادات پر دہلی اقلیتی کمیشن نے رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق نئی دہلی فسادات مسلمانوں کے خلاف منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوئے، جن کے دوران مسلمانوں کے قتل اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے میں پولیس بھی شامل رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی فسادات میں مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، 11 مساجد، 5 مدارس، ایک درگاہ اور قبرستان پر حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے نام پر مسلمان اکثریتی علاقوں میں تعینات کیا گیا، تاہم فسادات کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ نئی دہلی پولیس نے فسادات کے بعد انتہا پسندوں کو علاقوں سے نکلنے میں مدد کی، پولیس نے شرپسندوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا اور تاخیری حربے استعمال کیے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی دہلی پولیس نے فسادات کا نشانہ بننے والے مسلمانوں پر ہی کشیدگی کا الزام دھرا۔ واضح رہے کہ نئی دہلی اقلیتی کمیشن نے سالِ رواں ہونے والے دہلی فسادات کی تحقیقات کے لیے مارچ میں 10 رکنی کمیٹی بنائی تھی۔ نئی دہلی میں 23 فروری کو شروع ہونے والے فسادات کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک جبکہ 2سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔


































