
شواہد موجود ہیں کہ راکٹ حملے امریکی سفارتخانے کے ساتھ وابستہ عناصر انجام دیتے ہیں،کتائب سید الشہدا ، استقامتی تحریک کو امریکا سے کوئی خوف نہیں ،النجبا
مشکوک واقعات سے عراق کے اندر داخلی فسادات کی بو آرہی ہے،مقتدیٰ الصدر،بغدا دکے الرضوانیہ میں آبادی پر راکٹ حملہ گہری سازش کی خبر دیتا ہے،عمار الحکیم
بغداد(نیوز ڈیسک) مزاحمتی تنظیموں نے عراق میں امریکی مفادات پر حملو ں میں امریکی سفارتخانے کو ہی ملوث قرار دے دیا، تاکہ عراق میں قیام اور مزاحمتی تنظیموں کے خلاف کارروائی کا جواز پیدا کیا جاسکے، حشد الشعبی کے ایک ذیلی بریگیڈکتائب سید الشہدا نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں راکٹ حملے، امریکی ایما پر کئے جا رہے ہیں، امریکی سفارتخانہ اس سازش میں براہ راست ملوث ہے ، ترجمان شیخ کاظم الفرطوسی نے کہاکہ شواہد موجود ہیں کہ راکٹ حملے امریکی سفارتخانے کے ساتھ وابستہ شرپسند عناصر انجام دیتے ہیں ،بغداد کے علاقے الرضوانیہ کے ایک گھر پر ہونے والا راکٹ حملہ بھی امریکی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی کارروائی ہے ، امریکا صورتحال کو بدلنے کے لئے عراقی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور حشد الشعبی سمیت عراقی مزاحمتی محاذ کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لئے جواز کی تلاش میں ہے،صدر تحریک کے رہنما مقتدی صدر نے بھی ٹویٹ کیا ہے کہ مشکوک واقعات سے عراق کے اندر داخلی فسادات کی بو آرہی ہے،انہوں نے تمام عراقی عوام سے درخواست کی کہ وہ ملک کو قومی یا مسلکی جنگ میں ڈالنے کے حوالے سے ہوشیاری کا مظاہرہ کریں اور جان لیں کہ عراقی کا خون دوسرے عراقی پر حرام ہے،مقتدی صدر نے مسلح گروہوں سے کہا ہے کہ عراق سے بیرونی فوجیوں کو باہر نکالنے کے لئے سفارتی طریقوں کا استعمال کرنے دیں،سیدعمار حکیم نے بھی ٹوئٹ کیا کہ عوامی مقامات پرحملوں کا تسلسل اور بغداد کے الرضوانیہ میں ایک محلے پر راکٹ حملہ گہری سازش کی خبر دیتا ہے،انہوں نے واقعے میں ملوث مجرموں کی گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ کیا ۔القانون گروپ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ عوامی علاقے میں راکٹ حملہ عراق کے دشمنوں اور سلامتی کے مخالفین کا کام ہے،النجبا اسلامی مزاحمتی تحریک نے بغداد میں امریکی سفارت خانہ کو فوجی چھاو ¿نی قرار دے دیا، تحریک کے نائب سربراہ نے کہا کہ استقامتی تحریک کو امریکا سے کوئی خوف نہیں ، امریکی جارحین اور ان کے ایجنٹ، استقامتی تحریک کے عزم و ارادے میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتے۔


































