
افغانستان فوجیوں کو کرسمس تک واپس گھر بلا لینا چاہیے، صدر ٹرمپ، امریکااگلے سال کے اوائل میں افواج کی تعداد 5 ہزار سے بھی کم کردے گا،مشیر قومی سلامتی
افغانستان سے فوجیوں کا انخلا تشدد میں کمی او ر معاہد ہ کی شرائط عملدرآمد سے مشروط ہے ،امریکی جنرل،سب ساتھ افغانستان گئے تھے ساتھ ہی نکلیں گے، نیٹو
واشنگٹن /کابل)نیوز ڈیسک) کرسمس تک افغانستان سے فوجی انخلاءکے اعلان پر صدر ٹرمپ اور امریکی فوج میں اختلافات کھل کرسامنے آگئے جبکہ طالبان نے ٹرمپ کے اعلان کوخوش آئند قرار دے دیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں برس کرسمس تک افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا چاہتے ہیں ، ہمیں افغانستان میں تھوڑی تعداد میں خدمات انجام دینے والے اپنے بہادر مرد اور خواتین کو کرسمس تک واپس اپنے گھر بلا لینا چاہیے، ایک فوجی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ٹویٹ محض ابتدائی لفظ ہے تاہم ہر کوئی افغانستان سے فوجی انخلا کو تیز ہوتے دیکھ رہا ہے، صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ سے چند گھنٹے قبل ہی امریکا کے قومی سلامتی مشیر رابرٹ او برائن نے کہا تھا کہ امریکا اگلے سال کے اوائل میں افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد 5000 سے بھی کم کردے گا، جوائنٹ چیفس چیئرمین جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجیوں کا انخلا تشدد میں کمی اور ان شرائط سے مشروط ہے جو فروری کے معاہدے میں طے کی گئی تھیں،باقی 4500فوجیوں کا انخلا اسی وقت ہوگا جب طالبان حملوں میں کمی لائیں گے اور کابل حکومت سے امن مذاکرات میں پیشرفت کریں گے، پورا معاہدہ اور انخلا حالات پر مبنی ہے، دوسری جانب نیٹو کے سربراہ ڑینس اسٹولٹن برگ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد تمام ارکان افغانستان سے انخلا کے وقت کے بارے میں مشاورت کریں گے ، ہم سب نے مل کر افغانستان جانے کا فیصلہ کیا اور ہم مل کر مستقبل میں فوجیوں کے انخلاکے بارے میں فیصلہ کریں گے، ادھر افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ امریکی فوجی دستوں کے قبل از وقت انخلا کا منفی اثر پڑ سکتا ہے ،طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ دوحہ معاہدے کا حصہ ہے، امریکی فوجیوں کو افغانستان سے جانا ہی ہو گا۔


































