
بیروت : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے کہاہے کہ آج ہمیں امن و سلامتی اور مقاومت کی نعمت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مقاومت کی نعمت سے چمٹ کر رہنا چاہیے اور وہم و قیاس آرائیوں پر مبنی شورشرابے کے زیر اثر نہیں جانا چاہیے۔ معروف عالم علامہ سید محمد علی الامین مرحوم کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں حسن نصراللہ نے کہاکہ لبنانیوں کی عزت و کرامت کو خود لبنانیوں نے اپنے لئے حاصل کیا ہے، نہ کہ سلامتی کونسل، اقوام متحدہ یا کسی دوسرے فریق نے۔ دنیا کا کوئی قانون نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بین الاقوامی قانون ہے اور یہ جنگل کے قانون سے بھی بدتر ہے۔ آج فلسطینی مذاکرات اور اوسلو سے مایوس ہیں اور مغربی کنارے، غزہ اور تمام خطوں میں مقاومت غالب ہے۔ فلسطینیوں کے سامنے مزاحمت کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ امریکی ثالث کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے لبنانی ریاست کی حمایت کرتی ہے۔ بحری فتح قومی یکجہتی کا ثمر ہے اور اس سے لبنان کو اقتصادی بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد داعش ختم ہوگئی ہے لیکن منصوبہ بدستور قائم ہے۔ داعش کو ایک حکمرانی نظام کے طور پر ختم کیا گیا تھا نہ کہ ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر جو کہ افغانستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش پر امریکی اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے جبکہ اس کا ایک بڑا حصہ افغانستان منتقل کیا جاچکا ہے افغانستان میں 50 سے زائد بے گناہ لوگ شہید ہوئے لیکن بین الاقوامی سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام اور عراق میں داعش کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں چل رہی ہیں۔ جس نے داعش کو بنایا یعنی امریکا اب بھی اس کی حمایت کر رہا ہے اور اس کے لیے محفوظ حالات پیدا کر رہا ہے۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ عراقی عوام شہید حاج قاسم سلیمانی کی موجودگی اور داعش کے خلاف ایران کے عراق کے ساتھ کھڑے ہونے کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ عراق کے عوام سعودی عرب سے کیسے دوستی کا اظہار کرسکتے ہیں جس نے عراق میں 5000 خودکش بمبار بھیجے اور اسلامی جمہوریہ ایران سے کیسے نفرت کر سکتے ہیں جس نے عراق کو آزاد کرانے کے لیے کسی اقدام سے دریغ نہیں کیا؟ ایران کو کوئی لالچ نہیں ہے جبکہ امریکہ سمیت دیگر ممالک عراق کے تیل کے وسائل اور دولت کے لالچی ہیں۔

































