Thu Oct 22, 2026

مدر آف آل بمز بھی ایرانی جوہری تنصیبات تباہ نہیں کر سکتا، ٹرمپ کا مقصد جھوٹی فتح کا اعلان کرنا ہے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات سعودی عرب کی شیبہ آئل فیلڈ پر حملے میں 2 افراد ہلاک نیتن یاہو اور ٹرمپ کا زوال قریب ہے، جنرل شکارچی ہماری نگرانی کے بغیر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں، امریکا کی سعودی عرب کو سخت تنبیہ جنگ چھیڑ کر دنیا میں افراتفری پھیلانے والا ملک خود کو مظلوم ظاہر نہیں کر سکتا، اسماعیل بقائی یمنی فوج کی پیشقدمی، تعز کے 11 اضلاع سے سعودی ملیشیا کو نکال دیا گیا ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا میں دفاعی تعاون کا سمجھوتہ دھمکیوں اور پابندیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں، ایرانی صدر پاکستان اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، منظوری کیلئے بل ترک پارلیمنٹ میں پیش فیلڈ مارشل اور ایرانی سیکورٹی چیف کی ملاقات، افزودہ یورینیم ایران سے باہر نہیں جائے گی، رضائی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، میاں بیوی اور 17 سالہ نوجوان سمیت 4 فلسطینی شہید سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ، 53 افراد ہلاک؛ خواتین اور بچے بھی نشانہ بن گئے پنجاب کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی، نیا آرڈیننس نافذ مارو اور بھاگ جاؤ کا دور ختم ہو گیا، ایران

روزانہ کی خبریں

مقاومت کی نعمت کی قدر اور اس سے چمٹ کر رہنے کی ضرورت ہے، حسن نصر اللہ

بیروت : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے کہاہے کہ آج ہمیں امن و سلامتی اور مقاومت کی نعمت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مقاومت کی نعمت سے چمٹ کر رہنا چاہیے اور وہم و قیاس آرائیوں پر مبنی شورشرابے کے زیر اثر نہیں جانا چاہیے۔ معروف عالم علامہ سید محمد علی الامین مرحوم کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں حسن نصراللہ نے کہاکہ لبنانیوں کی عزت و کرامت کو خود لبنانیوں نے اپنے لئے حاصل کیا ہے، نہ کہ سلامتی کونسل، اقوام متحدہ یا کسی دوسرے فریق نے۔ دنیا کا کوئی قانون نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بین الاقوامی قانون ہے اور یہ جنگل کے قانون سے بھی بدتر ہے۔ آج فلسطینی مذاکرات اور اوسلو سے مایوس ہیں اور مغربی کنارے، غزہ اور تمام خطوں میں مقاومت غالب ہے۔ فلسطینیوں کے سامنے مزاحمت کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ امریکی ثالث کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے لبنانی ریاست کی حمایت کرتی ہے۔ بحری فتح قومی یکجہتی کا ثمر ہے اور اس سے لبنان کو اقتصادی بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد داعش ختم ہوگئی ہے لیکن منصوبہ بدستور قائم ہے۔ داعش کو ایک حکمرانی نظام کے طور پر ختم کیا گیا تھا نہ کہ ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر جو کہ افغانستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش پر امریکی اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے جبکہ اس کا ایک بڑا حصہ افغانستان منتقل کیا جاچکا ہے افغانستان میں 50 سے زائد بے گناہ لوگ شہید ہوئے لیکن بین الاقوامی سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام اور عراق میں داعش کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں چل رہی ہیں۔ جس نے داعش کو بنایا یعنی امریکا اب بھی اس کی حمایت کر رہا ہے اور اس کے لیے محفوظ حالات پیدا کر رہا ہے۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ عراقی عوام شہید حاج قاسم سلیمانی کی موجودگی اور داعش کے خلاف ایران کے عراق کے ساتھ کھڑے ہونے کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ عراق کے عوام سعودی عرب سے کیسے دوستی کا اظہار کرسکتے ہیں جس نے عراق میں 5000 خودکش بمبار بھیجے اور اسلامی جمہوریہ ایران سے کیسے نفرت کر سکتے ہیں جس نے عراق کو آزاد کرانے کے لیے کسی اقدام سے دریغ نہیں کیا؟ ایران کو کوئی لالچ نہیں ہے جبکہ امریکہ سمیت دیگر ممالک عراق کے تیل کے وسائل اور دولت کے لالچی ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular