
ابوجا کے شہر میتاما میں اسلامی تحریک کے سینکڑوں کارکن شیخ ابراہیم زکزاکی کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے ،جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی
فورسز نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا، مزاحمت پر شیلنگ اورفائرنگ کی گئی، کئی مظاہرین زخمی، اسلامی تحریک کی شدید مذمت
ابوجا(نیوزڈیسک) نائیجیریا میں پولیس ایک بار پھر اسلامی تحریک کے کارکنوں پر ٹوٹ پڑی اور شیلنگ اور فائرنگ کرکے کئی افراد کو زخمی کردیا، ریاست ابوجا کے شہر میتاما میں اسلامی تحریک کے سینکڑوں کارکن اسلامی تحریک کے سربراہ آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کی حمایت میں نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے اور شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ کو بلا جواز قید میں رکھنے کی شدید مذمت کی،مظاہرین میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی، مظاہرین نے شیخ ابراہیم زکزاکی کی حمایت میں بینر زبھی اٹھا رکھے تھے، مظاہرین اگویا ایئرونوسی شاہراہ کے قریب پہنچے تو پولیس اور فیڈرل روڈ سیفٹی کے اہلکاروں نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا، مظاہرین کی مزاحمت پر پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا، جس سے کئی مظاہرین زخمی ہوگئے، فورسز نے طاقت کے زور پر مظاہرین کو منتشر کردیا، اسلامی تحریک کے میڈیا فورم کے صدر ابراہیم موسی نے ایک بیان میں مظاہرین پر تشدد اور اسلامی تحریک کے کارکنوں کو شیعہ ملیشیا قرار دینے کی شدید مذمت کی اور اسے شرپسندی قرار دیا، انہوں نے کہاکہ یہ اسلامی تحریک کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہے، لیکن کادونا کی ریاستی حکومت جھوٹے الزام کے باوجود اپنی ہائی کورٹ کے سامنے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ اسلامی تحریک کے ارکان نے کوئی جرم کیا ہے یا امن کی خلاف ورزی کی ہے


































