آیت اللہ زکزاکی کی سخت سیکیورٹی میں کادوناکی عدالت میں پیشی،عدالت کی ذاتی معالج سے علاج کے حکم کی تعمیل نہ کرنے پرا صلاحی سہولت مرکز کے نگراں پر برہمی
علاج کی ہرممکن سہولت فراہم کی جائے،عدالت کا حکم، سماعت23اپریل تک ملتوی، باربار سماعت ملتوی کرنے پر سخت تحفظات ہیں،ترجمان اسلامی تحریک
کادونا (نیوز ڈیسک) نائیجیریا کے عدالتی حکام نے اسلامی تحریک کے قائد آیت اللہ شیخ زکزاکی کا مقدمہ ایک بار پھر التوا کا شکار کر دیاعدالت نے شیخ زکزاکی کو علاج کی اجازت نہ دینے پر ریاست کادونا میں اصلاحی سہولت مرکز کے نگراں کو بلا کرسخت برہمی کا اظہار کیا اورحکم دیا کہ شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ کو علاج کی ہرممکن سہولت فراہم کی جائے اور عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے انہیں ذاتی معالج سے علاج کرانے کی اجازت دی جائے، شیخ زکزاکی کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اصلاحی مرکز کے نگراں نے عدالت کو تفصیلات سے آگاہ کیاجس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور اپنے حکم کو دہراتے ہوئے کیس کی سماعت 23 اور24 اپریل تک ملتوی کردی، آیت اللہ شیخ زکزاکی اور انکی اہلیہ کو مزید 2 ماہ عدالت میں پیشی کیلئے انتظار کرنا پڑے گا، انسانی حقوق کے اسلامی کمیشن نے نائیجیرین حکام سے آیت اللہ شیخ زکزاکی اور انکی اہلیہ کو رہا کرنے کی درخواست کی ہے، مقدمہ کی سماعت ایک بار پھر ملتوی ہونے پر اسلامی تحریک کے کارکنوں نے عدالت کے باہر احتجاج کیا، میڈیا فورم کے سربراہ ابراہیم موسیٰ نے کہا کہ انہیں عدالت کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کے فیصلے پر سخت تحفظات ہیں،حکومت چاہتی ہے کہ مقدمہ چلتا رہے اورشیخ زکزاکی کو ہمیشہ حراست میں رکھا جائے، مقدمے کی سماعت 15مئی 2018کو شروع ہوئی تھی اور کئی بار ملتوی کی جاچکی ہے، اور ہم حیران ہیں کہ آخر یہ تاخیر کیوں اور کب ختم ہوگی؟۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- افریقہ
- شیخ زکزاکی کو مستقل تحویل میں رکھنے کا منصوبہ،مقدمہ پھر…


































