
کدونا ہائیکورٹ میں ایک بارپھرمقدمہ کی سماعت، شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ زینت کو پیش نہیں کیا گیا، مقدمہ کی سماعت 31مارچ تک ملتوی کردی گئی
حکومت شیخ زکزاکی کو خطرہ سمجھتی ہے اور انہیں زخمیوں کے علاج اور طبی معاملات سے روک کر آہستہ آہستہ جیل میں مارنا چاہتی ہے،مبصرین
ابوجا(نیوزڈیسک) نائیجیریا حکومت نے اسلامی تحریک کے سربراہ آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا، رواں ہفتے کدونا ہائیکورٹ میں جسٹس گیڈون کورڈاکی زیرصدارت مقدمے کی سماعت 6 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی، لیکن اس بار بھی شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ زینت کو پیش نہیں کیا گیا، جج نے مقدمہ کی سماعت 31مارچ تک ملتوی کردی ، شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ دسمبر 2015 سے حراست میں ہیں اور جب سے مقدمہ کی سماعت کئی بار ملتوی کی جاچکی ہے، ریاستی حکومت نے شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ پر8الزامات لگائے ہیں جن میں مجرمانہ قتل ، غیر قانونی اجتماع اور عوامی امن میں خلل ڈالنا شامل ہے، مبصرین کا کہنا ہے کہ نائیجیرین حکومت شیخ زکزاکی کو خطرہ سمجھتی ہے اور اسے زخمیوں کے علاج اور طبی معاملات سے روک کر آہستہ آہستہ جیل میں مارنا چاہتی ہے،شیخ زکزاکی کے دفاعی وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ عدالت میں ایک بار پھر دعوی کیا گیا کہ 223 شیعہ جنہیں فوجی کے قتل کے الزام میں تین مختلف عدالتوں میں پیش کیا گیا تھا انھیں بری قرار دیکر رہا کردیا گیا ہے


































